حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ادارہ الباقر کے شعبۂ تبلیغات، مجلس علمائے امامیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام گوجرانوالہ میں ایک عظیم علمی و تربیتی ورکشاپ منعقد ہوا؛ جس میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال اور وزیر آباد کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے درجنوں آئمہ جمعہ والجماعت، مبلغین امامیہ اور علمائے کرام نے شرکت کی۔

یہ پروگرام مجلسِ علمائے امامیہ پاکستان کے سہ ماہی تربیتی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کا مقصد علماء و مبلغین کی علمی، فکری و تبلیغی صلاحیتوں میں اضافہ اور عصر حاضر کے تقاضوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنا تھا۔
ورکشاپ میں شہدائے اسلام و مقاومت بالخصوص شہید امت حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ، سید مقاومت شہید سید حسن نصراللہؒ اور دیگر شہداء کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے ایران، لبنان اور فلسطین کے خلاف جاری امریکی و صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اتحادِ امت، بیداری اور مزاحمتی فکر کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

ممتاز عالم دین اور دارالعلوم محمدیہ سرگودھا کے پرنسپل علامہ ملک نصیر حسین نے اپنے خطاب میں شہید سید حسن نصراللہؒ کی قیادت، استقامت اور امت مسلمہ کے مختلف طبقات کے درمیان وحدت کے فروغ میں ان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لبنان میں مقاومت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں اور ظلم و استکبار کے مقابلے میں عزت و استقلال کی ایک نئی مثال قائم کی۔

بعد ازاں بین الاقوامی ادارہ الباقر کے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ علامہ ڈاکٹر سید جاوید حسین شیرازی نے شہید امت امام سید علی خامنہ ایؒ کی فکری، روحانی اور انقلابی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اتحادِ امت، بین المسالک ہم آہنگی، اسلامی بیداری اور دفاعی خودکفالت کے میدان میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کی بصیرت افروز قیادت نے امت مسلمہ کو امید، اعتماد اور استقامت کا نیا حوصلہ عطا کیا۔

مجلس علماء امامیہ پاکستان کے مدیرِ مسئول حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ضیغم عباس نے موجودہ حالات میں علماء و مبلغین کی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منبر و محراب سے عوامی شعور، فکری بصیرت اور حق و باطل کی صحیح شناخت کو فروغ دینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کو بیداری اور تبیین کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما اور ممتاز عالم دین علامہ مبارک موسوی نے اپنے خطاب میں شہید امت حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کے چہلم کے سلسلے میں 13 جون کو مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی "شہید امت کانفرنس" کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اجتماعات شہداء کے مشن، فکر اور اہداف سے تجدیدِ وابستگی کا مؤثر ذریعہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے علماء، مبلغین اور مؤمنین کو اس قومی و ملی اجتماع میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مینار پاکستان کا یہ اجتماع شہید امت کو خراج عقیدت پیش کرنے، امت مسلمہ کے اتحاد کے اظہار اور مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم کی تجدید کا عظیم موقع ہوگا۔

شرکاء نے شہید امت حضرت امام سید علی خامنہ ایؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ تجدید عہد کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ امت مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور مزاحمتی فکر کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
ورکشاپ کے اختتام پر شہدائے اسلام و مقاومت کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی۔ مقررین اور شرکاء نے ایران، لبنان اور فلسطین کے خلاف جاری جارحیت کی شدید مذمت کی، جبکہ بحرین، کویت، امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں پیروانِ اہلِ بیتؑ کے خلاف جاری مظالم، شہریت کی منسوخی، گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کی سخت مذمت کی۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی ادارۂ الباقر ایک فعال دینی، علمی اور سماجی ادارہ ہے جو اپنے بانی و سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی کی سرپرستی میں تبلیغِ دین، علمی تحقیق، تربیت اور سماجی خدمت کے میدان میں مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ